مولاناآمیرنواز صاحب کی وفات کا سن کر دلی دکھ ہوا۔لالچ سے آزاد اور باعمل عالم دین تھے۔ایم این اے جمال الدین

مولانا آمیرنواز صاحب آ کابرین کی نشانی تھی۔دینی خدمات فراموش نہیں کریں گے۔ایم پی حافظ عاصم الدین

جنوبی وزیرستان وانا۔جرگہ نیوز آن لائن) مدیر جامعہ دارالعلوم اشرفیہ وانا مولانا آمیرنواز صاحب  کئی دنو ں سے علیل تھے۔مولانا آمیرنواز صاحب ڈیرہ اسماعیل خان کے ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔بیماری کی شدت کی وجہ سے آج مولانا آمیرنواز صاحب مالک حقیقی سے جاملے۔مولانا آمیر نواز صاحب   کا وزیرستان وانا کے لیول پر کردار   شاولی اللہ  رحمہ اللہ جیسا تھا۔جس طرح شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنے وقت میں لوگوں کی اصلاح کیلیے کوشش کررہے تھے۔درس وتدریس کے ذریعے عقائد کی تحفظ  اور لوگوں  کی دینی تربیت کرتے تھے۔ مولاناآمیرنواز صاحب بھی وزیرستان کے لیول پر اسی طرح  نوجوانوں کی تربیت کررہے تھے۔مولانا آمیرنواز صاحب نہایت خوش مزاج اور شفیق انسان تھے۔اگر گھر میں کسی کا نوجوان بیٹا اپنے والد کی نافرمانی کرتے تھے۔تو نوجوان  کا والد مولانا آمیر نواز صاحب کے پاس آتے تھے تھے۔مولانا آمیر نواز صاحب نوجوان کو بلاتے تھے۔ان کو بہت اچھے طریقے سے نصیحت کرتے تھے۔ والدین کی فرمانبرداری کی تلقین کرتے تھے۔نوجوانان بھی مولانا آمیرنواز صاحب کی نرم مزاجی اور خوش آخلاقی سے پیش آنے کی وجہ سے بہت جلد متاثر ہوجاتے تھے۔

جنوبی وزیرستان  حلقہ NA 49  سے منتخب ممبر قومی اسمبلی جناب مولانا جمال الدین صاحب نے مولانا آمیرنواز صاحب کی وفات کے بارے میں  جرگہ نیوز کے ساتھ اپنے تاثرات  شریک کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آمیر کی وفات کا سن کر دلی دکھ ہوا۔  مولانا آمیر نواز صاحب  دنیاوی لالچ سے آزاد اور باعمل  عالم  دین تھے۔آج کل کے دور میں مولانا آمیرنواز جیسی امانت داری،پرہیزگاری اور عاجزی بہت سے کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔مولانا آمیر نواز صاحب واقعی نیک انسان تھے۔

جنوبی وزیرستان سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی حافظ عصام الدین صاحب نے جرگہ نیوز کو بتایا کہ مولانا آمیرنواز صاحب اکابرین کی ایک نشانی تھی۔نوجوانوں کی تربیت،عقائد کی تحفط کیلیے کوششوں اور درس وتدریس کے خدمات  نہ صرف قابل ستائش ہیں۔بلکہ ہم کھبی بھی ان کے خدمات کو فراموش نہیں کرسکتے۔

مولانا آمیرنوازمرحوم کی تصویر

مولانا آمیر نواز کے ایک شاگرد عمر خان نے جرگہ نیوز کو بتایا کہ  مولانا آمیرنوا ز صاحب نہایت شفیق انسان تھے۔ خوش ظرفی، تواضع ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔مولانا آمیرنواز صاحب ہر مکتبہ فکر میں یکساں مقبول تھے دین اسلام سربلندی کے لئے ہر وقت ہمہ تن مصروف عمل رہتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کو قرآن وسنت کے خدمت کے لئے وقف کیا تھا۔رکھ رکھاو میں ہماری روایات کی شاید آخری کڑی تھیں۔ ان کے ہاں جاتا تو بہت اکرام سے پیش آتیں۔حال احوال پوچھتے اور بہت خاطر و مدارت کرتے۔میرا ان کے ساتھ گہری قلبی،محبت، خلوص کا تعلق تھا۔ان کے بشرے پر ہمیشہ تبسم اور ایک گونہ سا اطمینان رقصاں ہوتا۔ آنکھوں میں زندگی کی لہر موجزن ہوتی۔آج ان کی وفات کی خبر سن کر دل خون کے آنسوؤں رویا۔یقین نہیں آرہاہے کہ وہ آج اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔بس اللہ سے دعا ہے کہ ان کی سفر آخرت کو آسان فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں مقامِ اعلیٰ نصیب فرمائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button