فاٹا انظمام کےباوجود جنوبی وزیرستان میں گھروں کی مسماری جاری۔انتظامیہ بے بس

کژہ پنگہ میں خون بادشاہ کے گھر کو قومی لشکر نے مسمار کردیا۔آج ایک اور گھر مسمار کیا جائے گا

جنوبی وزیرستان- جرگہ نیوز آن لائن) فاٹا انظمام کے باوجود  قبائلی ضلع  جنوبی وزیرستان میں لشکر کشی اجتماعی سزااور گھروں کی مسماری جاری  ہے۔مقامی انتظامیہ اور پولیس قومی لشکر کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔فاٹا انظمام کے ثمرات دیکھنے کیلیے عوام ترس رہی  ہے۔ عوام تک فاٹا انظمام کے ثمرات  پہنچانے کے متعلق  قبائلی عوام کے ذہنوں میں ہر نئے روز  نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔قبائلی عوام سوالات اٹھارہے ہیں۔کہ جہاں ایک طرف عام بندے پر باقاعدہ طور پر  پاکستان کا آئین اور قانون لاگو کیا جاتا ہے۔لیکن بااثر اور طاقتور لوگوں کے سامنے وہی قانون اور آئین بے بس نظر آرہاہے۔


گھر مسمار کرنے  سے قبل زلی قوم کے جرگہ کی تصویر

گزشتہ روز جنوبی وزیرستان کے زلی خیل قوم نے لشکر کشی کرکے  خون بادشاہ کے گھر کو جلادیا۔خون بادشاہ  کے ساتھ  کاروبار میں شریک صدام سلور خیل نے جرگہ نیوز کو فون کرتے ہوئے بتایا کہ  گزشتہ روز زلی خیل قوم نے میرے کاروباری پارٹنر  خون بادشاہ کے گھر کو ایک زمینی تنازعے کی بنیاد پر جلادیا۔زلی خیل قوم آج ہمارے گھروں کو بھی مسمار کریں گے۔صدام نے زمینی تنازعے کی حقیقت کے بارے میں موقف اپناتے ہوئے کہا کہ سولہ سال قبل  2004  میں  زلی خیل  قوم کے اسی  اٹھارہ رکنی کمیٹی  ( اتلاس کسائی) زلوانئی کے قریب ٹانک میں  ہمارے  لیے  تقریباً 2000 کنال پر مشتمل زمین بمعہ  غوریزائی انتقال   پر خرید ی تھی۔اسی  اٹھارہ رکنی کمیٹی نے اجرت بھی لیا تھا۔ ہم اس زمین کو 2006 سے کاشت کررہے ہیں ۔ابھی بھی اس  زمین پر ہماری فصل کھڑی ہے۔ہمارے پاس انتقال کے کاغذات بھی موجود ہے۔لیکن  اب زلی خیل قوم وہ زمین ہم سے واپس چھین رہاہے۔ہمیں ایک بار  2015 میں تین لاکھ جرمانہ کیاتھا۔پھر ایک لاکھ  رقم بطور جرمانہ ہم سے لیے تھے۔زلی خیل قوم کا موقف تھا کہ آپ لوگوں نے زمین کے کاغذات ٹانک کیوں لے گئے ہیں۔

جرگہ نیوز نے زلی خیل قوم کے  اٹھارہ رکنی  کمیٹی کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی۔لیکن رابطہ نہ ہوسکا۔

صدام سلور خیل نے انتظامیہ اور پولیس  کی بے بسی کے بارے میں جرگہ نیوز کو بتایا کہ واقعے سے قبل ہم   سیکیورٹی  فورسز ،پولیس  اور لوکل انتظامیہ کے پاس بھی گئے۔انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ زلی خیل قوم  کو گھروں کو مسمار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔خلاف ورزی کرنے پر قانون حرکت میں آئے گی۔

صدام نے بتایا کہ گزشتہ روز واقعے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر وانا بشیراور پولیس ڈی ایس پی انعام کی موجودگی میں زلی خیل قوم نے ہمارے گھروں کو جلایا۔اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی زلی خیل قوم کے سامنے بے بس تھے۔وہ صرف تماشائی کا کردار ادا کرسکتے تھے۔

انتظامیہ اور پولیس کی بے بسی کے بارے میں جرگہ نیوز نے ڈی پی او ساوتھ وزیرستان شوکت علی سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے جرگہ نیوز کو بتایا کہ میں جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا۔میں  راستے میں ہوں  ۔ایک میٹنگ کیلیے پشاور جارہاہوں۔واقعے کے متعلق جائے وقوعہ پر موجود ڈی ایس پی  انعام سے آپ پوچھ سکتے ہو۔جرگہ نیوز نے انعام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اسسٹنٹ کمشنر وانا بشیر صاحب نے جرگہ نیوز کو بتایا کہ ہم دو دن سے مسلے کو جرگہ کے ذریعے حل  کرانے کی کوشش میں تھے۔ملک جمیل اور ملک شہریار کی سربراہی میں زلی خیل اور دوسرے فریق کے درمیان بات چیت جاری تھی۔لیکن کل اچانک زلی خیل نے گھر کو جلادیا۔بشیر صاحب نے بتایا کہ چونکہ ہمارے پاس اتنی نفری  نہیں تھی کہ ہم زلی خیل کا مقابلہ کر تے۔اس لیے ہم گھروں کو جلانے سے نہیں بچا سکے۔بشیر صاحب نے کہا کہ  غیر قانونی کام میں ملوث  زلی خیل قوم کے  سر کردہ  مشران کے خلاف سخت قانونی کاروائی کریں گے۔کسی کو بھی حکومتی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ متاثرہ فیملی کیلیے  گرم کبل اور راشن پر مشتمل امدادی پیکج  بیجھ دیاہے۔انشاءاللہ  گھر  جلانے کا معاوضہ دینے کیلیے بھی   بات کروں گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button