کیپٹن عبدالولی شہید کے گھر کی حالت اور غریب والد کا بلند حوصلہ۔عسکری حکام کااظہارہمدردی

عبداالولی کے نام کو زندہ رکھنے کیلیے ان کے نام پر وانا میں فلاحی ادارہ قائم کیا جائے اور اداروں میں خصوصی کوٹہ قائم کیا جائے۔والد کامطالبہ

عمر وزیر

اسلام آباد:جنوبی وزیرستان کے غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے کیپٹن عبدالولی شہید کو دو ہفتے پہلے شمالی وزیرستان کے تحصیل بویا میں ایک سرچ اپریشن کےدوران شہید کیا گیا تھا۔عبدالولی شہید کی ابھی چند مہینے شادی ہوئی تھی۔ کیپٹن عبدالی شہیدکیڈٹ کالج وانا کے طاب علم تھے۔ان کا والد کیڈٹ کالج وانا میں بطور مالی نوکری کرتا ہے۔

جرگہ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیپٹن عبدالولی کے والد کا کہناہے کہ بے شک کیپٹن عبدالولی شہید عہدے کے اعتبار سے ملٹری آفیسر تھے لیکن ایمانداری فرض شناسی کی وجہ سے گھر والوں کی زاتی فائدے کیلیے ابھی تک میرے بیٹے نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔جس پر مجھے خوشی بھی ہے۔لیکن ملک کی خاطر میرے بیٹے نے عظیم قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا۔اپنی جان تک نچھاور کردی

ان کے والد کا کہنا تھا کہ بے شک کیپٹن عبدالولی کےگھر میں ابھی تک نہ پینےکا پانی ہےاور نہ زاتی کوئی بنگلہ یا اور کچھ۔ لیکن کیپٹن عبدالولی ملک کی خدمت کی خاطر جس عظیم مقصد پر نکلاتھا وہ عظیم مقصد میرے بیٹے نے حاصل کرلی۔ایک والد کیلیے اس سے زیادہ فخر اور خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔میرے بیٹے نے اس مٹی پر اپنی جان تک نچھاور کردی۔جس پر آج بھی مجھے فخر ہے

کیپٹن عبدالولی کے والد نے حکومت اور سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ کیپٹن عبدالولی کے نام کو زندہ رکھنے کیلیے ان کے نام پر وانا میں فلاحی ادارہ قائم کیا جائے اور کیڈٹ کالج وانا اور ملک کے مختلف شہروں میں موجود آرمی پبلک سکولوں میں وانا کے بچوں کیلیے عبدالولی شہید کے نام پر خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والےکیپٹن عبدالولی شہید کے والد اور خاندان ابھی بھی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

واضح رہے کی کیپٹن عبدالولی شہید کی شہادت کے بعد ان کو آبائی گاؤں وانا میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا تھا۔جنازے میں علاقے کے لوگوں کے ہمراہ آئی جی ایف سی ساوتھ منیر افسر سمیت فوجی اور سول افسران نے شرکت کی تھی۔

کچھ دنوں بعد کورکمانڈر پشاور سردار اظہر حیات نے بھی کیپٹن عبدالولی شہید کے گھر جاکر ان کے والد کے ساتھ ان کی شہادت پر تعزیت کی

جرگہ نیوز نے جب عسکری حکام کے ساتھ رابطہ کیا اور ان سے کیپٹن عبدالولی کے گھر والوں کےمراعات کے بارے میں تفصیلات شریک کرنے کا پوچھا

تواعلٰی عسکری حکام کی طرف سے جرگہ نیوز کو بتایا گیا کہ پہلےتو ہماری نظر میں کیپٹن عبدالولی کی عظیم قربانی کا ہمارے پاس اس دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں۔کیونکہ عسکری حکام کے سامنے کسی فوجی آفیسر کی جان کا نذرانہ پیش کرنا سب سے بڑی قربانی شمار کیا جاتاہے۔اس عظیم قربانی کا ہم دینا کی چیزوں کے ساتھ موازنہ کرنا اپنے شہیدوں کی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی سمجھتے ہیں۔

جہاں تک شہید کے گھر والوں کے ساتھ تعاون کرنے اور ان کو مراعات ملنے کی بات ہے اس سلسلے میں ہم شہید کے فیملی والوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔کور کمانڈر پشاور بذات خودتعزیت کرنے کیلیے ان کے گھر گئے۔موقع ملنے پر آرمی چیف بھی تعزیت کرنے کیلیے ان کے گھر جاسکتاہے۔حکام نے بتایا ان کے گھر والوں کوبھی باقی فوجی افسران کی طرح قانون کے مطابق تمام تر مراعات دیے جائیں گے۔

پہلے بھی عسکری حکام نے ان کے گھر والوں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔آئندہ بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کیپٹن عبدالولی شہید کے والد کی خواہش کے مطابق ہم نے کیڈٹ کالج وانا کا آڈیٹوریم ہال ان کے بیٹے کے نام پر کردیا ہے۔اس کے علاوہ ہم مزید اور بھی بہت کچھ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

عسکری حکام نے جرگہ نیوز کو بتایا کہ کیپٹن عبدالولی شہید پورے ملک کا شہید ہے ۔ہم اپنے شہیدوں کو کھبی بھی نہیں بھولیں گے۔اور نہ بھولنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد ان کے گھر والوں کو ان کے مراعات مل جائیں گے۔جس کی مکمل تفصیلات ہم جرگہ نیوز کے ساتھ بھی شریک کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button