معاشرہ کی اسلامی تشکیل اور طریقہ کار

تحریر: ثناء اللہ وزیر

عبداللہ ابن مبارک کا شعر ہے کہ:

ھل افسد الدین الا الملوک احبارھا سوء و رھبانھا

دینی معاملات کو کس نے فاسد کیا ؟سوائے حکمرانوں اور علماء سوء نے۔

معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میں برائی یا اچھائی پیدا ہونا دو طبقوں کے ساتھ منسلک ہوا کرتی ہے، ایک طبقہ وہ ہے جس کے ہاتھوں میں کسی نہ کسی حیثیت سے( گھریلو سطح سے لے کر ملکی سطح تک ) حکمرانی ہو ، دوسرا طبقہ وہ ہے جو معاشرہ کی علمی وفکری راہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہاہو۔

معاشرے کی اسلامی تشکیل کے لیے ان دوطبقوں سے منسلک حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہاں اسلام پھیلانے کے لیے دعوت کو عام کریں ، اور ان کے لیے بہترین اور مفید طریقہ کار اختیار کریں ، لیکن اس سلسلے میں دعوت کو دین کی اساسات اور ضروریات تک محدود رکھنا چاہیے ، کیونکہ اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو صحابہ کرام اجمعین سے لے کر تابعین اور ائمہ مجتہدین﷭ تک سب نے دعوتِ دین کو اساسات اور ضروریاتِ دین تک محدودر کھا ہے، البتہ کبار صحابہ کرام اجمعین کے درمیان اور ائمہ مجتہدین کے درمیان فقہی اور علمی اختلاف موجود تھا، لیکن انہوں نے اس علمی اور فقہی اختلاف کو دعوتِ دین کا موضوع نہیں بنایا ہے، لہٰذا عوام النّاس کے سامنے ان اختلافی مباحث کا تذکرہ کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے ، اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اگر عوام النّاس کے سامنے اختلافی مسائل بیان کیے جائے اور ان کو دعوتِ دین کا موضوع بنایا جائے تو عوام الناس میں تشویش اورتخریب پیدا ہوگی ، جس کے نتیجے میں معاشرہ میں دعوتِ دین کا اثر ختم ہوجائے گا۔

یادرہے ! کہ دعوتِ دین کی اساسات جس سے معاشرہ کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے دو ہیں،پہلا قرآن مجید جس کو اصول فقہ کی اصطلاح میں قطعی الثبوت کہا جاتا ہے ، دوسرااحادیث صحیحہ ،متواترہ اور سنتِ ثابتہ جس کو اصول فقہ کی اصطلاح میں قطعی الدلالت کہا جاتا ہے، لہٰذا سب سے پہلے معاشرے میں اساسات اور کلیاتِ دین کو پھیلانا اور اس پر معاشرے کو استوار کرنا ضروری ہے ، تاہم جزوی مسائل کا بھی حل تلاش کیا جائے گا ، کیونکہ یہ بھی عوام النّاس کی ضرورت ہے لیکن اس کا درجہ بعد میں ہے ، مثلاً ایک شخص نے کمرہ نہیں بنایا ہے ،لیکن وہ اس کے دروازے ، کھڑکی اور دیگر فرنیچر کا بندوبست کر رہا ہے ، تو پہلے کمرہ بنانا چاہیے اور دیگر سامان وغیرہ کا بعد میں بندوبست کرنا چاہیے،پس ان جزئیات اور فقہاء کرام کی آراء اور اجتہادات کو اساساتِ دین نہیں کہا جاسکتا ہے ، لہذا ضروری ہے کہ عوام النّاس کو سب سے پہلے کلیات اور اساساتِ دین سکھائی جائے، اس کے بعد اسلام کے جزئیات سکھانے کا مرحلہ آئے گا، اگر دین کی کلیات اور اساسات سے جزئیات کو مقدم رکھا جائے تو اس سے عوام النّاس میں بگاڑ آجائے گا،پھر اس قسم کی دعوت کے منفی نتائج مرتب ہوں گے ، مثلاً اگر کوئی شخص نیا مسلمان ہوجائے، توسب سے پہلے اس کو دینِ اسلام کی بنیادی ارکان سکھانی چاہیے،اور اگر مسلمان ہونے کے فوراً بعد ایک شخص اس کو فقہ حنفی کا مقلد بنا رہا ہے ، دوسرا فقہ شافعی ،تیسرا فقہ حنبلی،چوتھا فقہ مالکی کا،تو اس سے بے چارہ الجھن میں پڑ جائے گا ،اور ہو سکتا ہے کہ اسلام سے روگردانی اختیار کر لے ،لہٰذا ان کو اختلافی مسائل کی طرف نہ لے جائیں بلکہ وہ جس معاشرے اور جس ماحول کا حصہ بنے گا وہ خودہی اس ماحول کے مطابق فقہی مسلک اختیار کرے گا۔

معاشرے کی اس تشکیل کے بعد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نظام کے حوالے سے عوام النّاس میں شعور بیدار کرنا چاہیے ، کہ معاشرہ میں ایک اسلامی ماحول ہو وہاں کلیات اسلام کے مطابق ہوں ، ملکی قوانین اسلامی ہوں ، عدالتوں میں اسلامی قوانین نافذ ہوں ، عدل وانصاف ،مساوات کی فضا قائم ہوں ،تعلیم گاہوں کا ماحول ،علوم وفنون ، نظام تعلیم ،نصاب تعلیم اسلامی طریقہ کار کے مطابق ہوں ، معاشی اور معاشرتی معاملات اسلامی طرز عمل پر ہوں ،مگر یادرہے کہ اس کے لیے بھی ایسا طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے کہ معاشرہ الجھن اور بگاڑ کا شکار نہ ہوجائے بلکہ اسلامی اور نبوی تعلیمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک حکیمانہ اسلوب اختیار کرنا ضروری ہے۔

العرض ! معاشرہ کی اسلامی تشکیل کے لیے سب سے پہلے عوام النّاس کو ضروریاتِ دین پھر کلیاتِ دین سیکھانا ہوگا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button