معمولی تلخ کلامی پردوافراد لقمہ اجل بن گئے

عوام نے اسلحہ رکھنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا

جنوبی وزیرستان۔جرگہ نیوز آن لائن۔ یہ واقعہ جنوبی وزیرستان  کے صدر مقام وانا سے مغرب کی طرف واقع گنگی خیل اسٹاپ کے قریب پیش آیا ہے۔اطلاعات کے مطابق  گزشتہ دن  نیاز محمد اور اشرف خان خان کے خاندانوں کے بچوں کے مابین معمولی جھگڑا ہوا تھا ۔جس پرآج دوبارہ  نیاز اور اشرف  کا ایک دوسرے کے ساتھ  تلخ کلامی ہوگئی ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے،کہ نیازخان نامی شخص نے اشرف خان سے پوچھا،کہ تمہارے بچے روز کیوں ہمارے بچوں کو مارتے ہیں ۔دونوں کے درمیان تو تو  اور میں میں کے نتیجے میں نیازخان نے طیش میں آکر اشرف خان اور ان کے بیٹے عمرخطاب پر اندھادھند فائرنگ کی۔

فائرنگ کے نتیجے میں اشرف خان موقع ہی پر دم توڑ گیا،جبکہ عمر خطاب کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا،جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔واقعے کے بعد پورے علاقے میں افسردگی پائی جاتی ہے۔

واقعہ کے بعد مقامی پولیس نے واقعہ کی تفتیش شروع کردی ہے،اور ملزم کو پکڑنے کیلئے چھاپے مار رہی ہے،تاہم پچھلے کئی دنوں سے وزیرستان میں قتل واقدام قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے،جس کی وجہ سے لوگوں میں اس بارے تشویش بڑھ گئی ہے۔

خیال رہے  اس سے پہلے بھی جنوبی وزیرستان میں اسلحے کی ناجائز استعمال کے نتیجے میں کئی افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔فاٹا انظمام کے بعد پولیس نے  اسلحہ کی ازادانہ استعمال پر پابندی لگانے کا متعدد بار  کوشش کیا ہے۔بینرز کے ذریعے عوام کو  آگاہ کیا گیا،تاکہ وہ بازاروں میں اسلحہ لانے کی پابندی سے آگاہ ہو۔لیکن ابھی تک پولیس اور ضلعی انتظامیہ اسلحہ کے آزادانہ استعمال رکوانے میں ناکام دیکھائی دے رہی ہیں۔

ابراہیم نامی بندے نے جرگہ نیوز کوفون پر بتایا کہ اسلحہ رکھنے پر پابندی لگائی جائے۔پولیس اور ضلعی انتطامیہ کو اپنی زمہ داریاں پوری کرنی چاہئے۔ورنہ فاٹا انظمام سے پہلے اور انظمام کے بعد کے حالات میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آئے گا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button