فاٹا کے حل طلب مسائل اور حکومتی بے حسی،

     تحریر۔ محمد انور شاکر وزیر۔            

  قبائلی عوام   اور ان کو درپیش درینہ   مسائل   سے متعلق کافی کچھ  لکھا جا چکا ہے  ان مسائل میں کافی گھمبیر  اور اُلجھے ہوئے مسائل ہیں جو کہ طویل المدتی  منصبوں اور  پیچدہ  کارئیوں کے بعد ہی حل ہو سکتے ہیں لیکن ان میں بعض انتظامی نوعیت  کے ایسے مسائل بھی ہیں  جو بغیر کسی اسرمایہ کاری ،لشکر کشی،کے حل ہو سکتے ہیں قارئین کی آسانی کے واسطے یہاں چند  مثالیں پیش  خدمت ہے  جس کا بندہ بقلم خود  گواہ ہے  پیش خدمت  ہیں۔ ان مثالوں   سے حکومت  کے ترجیحات کا اندازہ   آسانی سے لگا یا جاسکتا ہے ۔  وگرنہ مسائل تو بے شمار ہیں   نوعیت بھی الگ  الگ ہے۔سر دست  ہم وہاں پر انصاف ،صحت  اور تعلیم  جیسے مسائل کا ذکر خیر کر رہے ہیں۔ آپ یقین کیجئے کہ ان  انتظامی مسائل کو فاٹا کے اکثر علاقوں میں   با سانی حل کیا  جا سکتا ہے۔لیکن نہ تو اس  سے پہلے کسی نے صحیح معنوں میں دھیان دیا اور نہ ہی موجودہ بر سر اقتدار  لوگ ہی تو  جہ دیتے ہیں۔ حالانکہ  ان مسائل کے  لئےحل کسی راکٹ سائنس کی ضرورت بھی نہیں    ۔ حیرانی  بلکہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ فاٹا  کی اہمیت  9/11 کے بعد  بڑھ چکی ہے۔ موجودہ صورتحال  میں پڑوسی ملک افغانستان کیساتھ بارڈر پر واقع ہونے اور افغانستان کے اندرونی   بدلتی ہوئی صورتحال  کے پیش نظر  اس کی اہمیت اور حساسیت  میں  مزید اضافہ ہوا ہے۔ چاہئے تو  یہ تھا کہ فاٹا کے وہ مسائل جو آسانی سے حل ہو سکتے ہیں  اب تک حل  ہو چکے ہوتے  تاکہ  یہاں پر احساس محرومی  میں اضافہ نہ   ہو تا ۔  یہاں کے باشندوں کو اپنائیت کا احساس ہوتا  کہ یہ لوگ بہت ہی محب وطن لوگ ہیں ۔یہ  چند سال پہلے کی بات ہے   جنوبی وزیرستان ایجنسی کے ایک پولیٹیکل ایجنٹ  محمد اعظم  کھلی کچہریاں  قائم کرتے تھے ،غالبا یہ میلہ  ہر جمعے کے روز سجایا  جاتھا۔ ایجنسی کے صدر مقام وانا میں کھلی کچہری  میں عوام    پی اے صاحب کو شکایات پیش کرتے تھے اور ہاں اس دوران کئی افراد کو ریلیف بھی ملا لیکن موصوف زیادہ عرصہ تک اسی پوسٹ پر نہ رہ سکا  ۔(سابق پولیٹیکل ایجنٹ ساؤتھ وزیرستان  ایجنسی  اعظم خان  جیسے آفیسرز کی یہاں ضرورت ہے  کیونکہ موصوف  ہمارے اطلاعات اور اندازے کے مطابق کرپشن سے پاک تھے ،بہترین انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے ،بندہ کو حال کا علم نہیں  یہ میری رائے ہے)قطار میں کھڑے ایک  بزرگ قبائلی نے  انتہائی درمندانہ انداز میں ایک رشتہ دار  بارے   درخواست پیش کی  اور  کہا، صاحب، ہمارا عزیز  کافی عرصہ ہوچکا  ملک کے کسی بڑے جیل میں  پڑا ہے  جبکہ جرم اتنا بڑا نہیں تھا ۔ پی اے صاحب نے ریکارڈ منگوایا  تو پتہ چلا کہ یہ ایک نوجوان   ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے ایک  جوڑا  پلاسٹک   کے چپل (غالبا قیمت  50 سے 70 روپے ) چوری کی ہے اور یہ مہینوں نہیں سال گزر گئے کہ جیل کاٹ رہا ہے  ۔ اس اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں قانون و انصاف کا بول بالہ ہے ۔ یہ وہاں کی خود ساختہ سزائیں ہیں جو گریڈ 5 کا انسان وہاں کے باعزت شہری کو دے سکتا ہے۔مثال نمبر 2۔ وانا  کے ایک خاصہ دار کمپنی میں   ایک نان لوکل   شخص بھرتی ہوا  ۔دن دگنی رات چگنی  ترقی کے منازل طے کرتا ہوا یہ  انسان  پورے ایجنسی کے ڈیولپمنٹ  کلرک  بن گئے۔ تا دم تحریر  اس  کا دور عروج    سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔   یہ کوئی معمولی شخصیت نہیں  ، جس وقت بندہ نے دیکھا تھا   اگر ایجنسی  میں موصوف کا کس کے ساتھ تعلقات اچھے ہوتے  تو اُس کے وارے نیارے ہوتے۔ موصوف  کی اپنی ایک شاندار گاڑی   ،2006 سے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شاندار مکان    اور  بھی بہت کچھ۔   موصوف   ایک طاقت ور آفیسر  نما کلرک ہیں۔ آج کل  بھی    ایک خوش باش  اور پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں، اللہ تعالی مزید تر قی بھی نصیب فرمائیں۔  طاقت کا اندازہ اس بات سے قارئین لگا سکتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم  یوسف رضا گیلانی   کے ساتھ ایک میٹینگ میں ( اس کا واقعے کا بندہ بقلم خود گواہ   اور گویا رہا) کسی نے آفسر خاص کا ذکر مبارک    چھیڑا  تو( جناب وزیر اعظم کا جہاں تک تعلق تھا  ) گیلانی صاحب نے فرمایا کہ یہ کیسا انسان ہے ؟ گورنر ، سیکرٹری   فاٹا  لااینڈ ارڈر اور ایڈیشنل سیکرٹری فاٹا سے لے کر پولیٹیکل ایجنٹس تک سب  موصوف کی حلال کی روٹی روزی سے واقف تھے لیکن کس کی مجال کہ کچھ کر سکیں؟  اور ہاں یہ بھی ضمنا عرض کردوں کہ    پی اے آفس میں موصوف  کیساتھ    تو تو میں اور تلخ کلامی صرف اس غرض  سے ہوئی کہ اگر ہو سکیں تو  ہمارے ہاتھ اُن کے گریبان مبارک اور  زُلف عنبرین تک پہنچ پائے لیکن  قسمت   نے ساتھ نہ دیا  ،کہاں   اتنے بڑے بڑے بزرگوں  کے برکات   و فیوضات   اور کہاں ہم سیاہ کاروں کے  ہاتھ   !  وجہ اس کے سوا  کچھ بھی نہیں تھا کہ موصوف   کی  طبعی فرعونیت   نے طغیانی کیفیت اختیار   کر رکھی تھی ۔

 مثال نمبر 3۔ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا  کیلئے  2004 میں آرتھوپیڈک ایمج مشین  60 لاکھ روپے سے خریدی   لی ،لیکن تاحال  یہ مشین 25 ہزار روپے کے ایک ٹیبل کی عدم  موجودگی کی بنا پر   گرد و غبار میں پڑا ہے ، اس کی رپورٹ  ڈئیریکٹر ہیلتھ فاٹا  ،گورنر ہاؤس ، وزیر اعظم ہاؤس  ،فاٹا سیکرٹریٹ میں  2009 میں پھر 2011 میں پہنچا دی گئی، ایک بار وہاں کے ایک سرجن نے رپورٹ دی تھی کہ مشین فنکنشل ہے لیکن جب ہم نے ہسپتال کے اندرونی ذرائع سے چیک کیا تو گنگا اُلٹی سمت والی بات تھی۔

آمدم برس مطلب ۔ ان تین مثالوں سے   بطور مشت نمونہ خروار کے  اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ  قبائلی علاقوں کے مسائل کیا ہیں ۔ یہاں قانون  اور انصاف کا معیار کیا ہے ۔ وہاں پر   طرز حکمرانی  کیا ہے ۔ جمہوری حکومتیں ہو یا دور آمریت    کسی نے بھی صحیح معنوں میں    قبائل کا حق آدا نہیں کیا ۔ ترقیاتی کاموں پر معمور شیش ناگ   کیسے ہوتے ہیں ایک مثال تو  جنوبی وزیرستان کی بتا دی ،  (  صحافتی خیانت ہوگی اگر  یہ نہ کہوں کہ جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے متعدد منصوبے   مکمل کئے    )  وزیرستان کی طرح دوسرے علاقوں کا بھی یہی  صورت حال ہے بلکہ اس سے بھی بد تر صورت حال  ہے۔

صحت  ،تعلیم     اور سستا انصاف   یہ  تینوں بنیادی  آئینی حقوق ہیں ۔ گور خیبر پختونخواہ  اگر چاہیں تو   بہت ہی قلیل مدت میں  یہ تینوں حقوق قبائیلوں کو    باسانی   دے سکتے ہیں ۔  کیونکہ ان مسائل کی نوعیت انتظامی ہے۔لیکن  اب یہ وقت کب آئیگا کہ جناب  گور نر صاحب   تمام ایجنسیوں کے  پولیٹیکل ایجنٹس   کو  ٹرانسفر کر کے  ایماندار آفیسر  تعینات کریں ، ایماندار آفیسرز کی کمی نہیں  لیکن  ھائے میرے اللہ خیبر ایجنسی کا  پولیٹیکل ایجنٹ  صاحب کون  خوش نصیب ہو گا۔ اس گورنر کے بارے میں تو علم نہیں مگر پہلے تو راوی رنگین بیان  بتا رہے تھے  کہ یہ پوسٹ  اربوں میں   خریدی جاتی ہے ، اور ہاں دروغ بر گردن راوی  کہ  پی اے خیبر کے ایک روز کا  آمدن  8 سے 9 کروڑ تک ہوا کرتا ہے  خیر   بات دور چلی گئی، انصاف، صحت اور تعلیم  جیسے سہولیات کی صورت حال بہتر بنانے کیلئے گور نر صاحب کیلئے صرف  عزم مصم کی ضرورت ہے ۔   آج ہی گورنر صاحب ایک ہی نوٹیفیکشن جاری کردیں کہ ایک ھفتے کے اندر تمام تعلیمی اداروں میں 100 فیصد حاضری  ہو گی بصورت دیگر معطلی اور جرمانہ  ہوگا۔ ایک ہی کاغذ کے ٹکڑے پر دو   تین جملے محکمہ صحت فاٹا کے نام  لکھ دیں اور ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیں    کہ ڈیوٹی سے غفلت پر معطلی اور بھاری جرمانہ  ہوگا ، اسی طرح ہر محکمے کے نام ایک  لیٹر لکھ دیتے پھر  نتائیج کیلئے مانٹیرنگ  ٹیم اور ہیلپ لائن  کا انتظام کرتے  ۔  انشاء اللہ کچھ ہی عرصہ بعد  حالات میں انقلابی تبدیلیاں آتیں ۔ لیکن  لگتا ہے کہ ا یں  خیال است و محال ست و جنون ۔کاش وزیر اعظم نواز شریف اور صدر مملکت حالات کی نزاکت کو سمجھتے  ! کیوںیہ دونوں حضرات باری باری تمام ایجنسیوں کے   تفصیلی دورے  نہیں کرتے ؟ کیوں  قبائلی عوام کو کے احساس محرومی  کو کم نہیں کرنا چاہتے ؟  کیا سارے کام فوج ہی کریں؟   آپ منتخب وزیر اعظم ہیں      قبائلی پٹی میں اپریشنز جاری ہیں   کثیر تعداد میں   لوگ   بے گھر ہیں ان کو  حوصلے کی ضرورت ہے ان کے مسائل سے خود کو آگا ہ رکھنے کا وقت ہے۔ ہمارے ساؤتھ وزیرستان کے کچھ  قبائلی لوگ  سرحد کے اُس پار رہتے ہیں   ،وہاں پر افغان حکومت  ،افغان نیشنل آرمی ، اور بعض ذرائع کے مطابق  بھارتی خفیہ ایجنسی   ‘را’ کے کارندے   طبی عملے کی صورت میں غریب  لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔  دنیا  کے کئی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں افغانستان میں  موجود ہیں ایسے میں   ہماری سوئی  یا تو میٹرو بس پر آٹکی ہوئی ہے یا چار حلقوں کے علاوہ  ہمارا کوئی مسلہ ہے ہی نہیں ۔یاد رکھنے کی بات ہے ارباب اختیار  کیلئے یہ پیشن گوئی نہیں ہے بلکہ ایک   کمزور  ،کم معلومات  کے حامل    جونئیر رپورٹر  کی حیثیت سے قبائل کے نبض کی حال بتا رہا ہوں کہ جب تک یہاں امن ، خوش حالی، انصاف ،روزگار، تعلیم   اور صحت  جیسے بہترین سہولیات   عوام کو میسر نہ ہو   تب  تک اس علاقے کی تقدیر بدلنے کا تصور بھی نہ کریں۔  اور یہاں کے اثرات پورے ملک پر پڑتے ہیں ۔اور ہاں یہاں پر   قلیل مدتی اور طویل المدتی منصوبوں کی اشد ضرورت ہے صرف ایڈہاک پالیسی سے کام نہیں چل سکتا ،وگرنہ اس کو مشرف نے آزمایا لیکن نتائج صفر ہی رہیں۔عوام میں پائی جانے والی مایوسی اوراحساس محرومی     نیک شگون  ثابت نہیں ہو سکتا۔

 دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پوری  قومی سیاسی قیادت     سر جوڑ کر بیٹھتی ہے لیکن قبائل کی نمائندگی صفر ہے۔ کاش قبائل   عوام کی رائے بھی معلوم کرنے کی زحمت کرتیں،قبائیلی عمائدین، ریٹائرڈ قبائلی  آفسران اور اکثر حاضر سرورس  آفیسرز،  دانشوراور علمائے  علماء کرام       کو اعتماد میں لیتے    تو انشاء اللہ قبائل میں صاحب الرائے  افراد کی کمی نہیں ، قومی سیاسی قیادت  کو بہترین مشورے  اور رہنمائی کر سکتں۔

لیکن لگتا ہے  کہ وفاقی حکومت   ترجیحات کے تعین میں تردد کا شکار ہیں۔ وگرنہ  قبائلی علاقوں کے تقریبا  20 لاکھ سے زائد افراد اس وقت بے گھر ہیں  اس سے بڑا قومی مسلہ اور کوئی ہوسکتا ہے؟ حکومت ہو یا اپوزیشن   سب نے صرف میڈیا کی بیانات تک  اس کو  اپنی ترجیحات میں رکھا ہے ۔ ہمارے خیال میں پاکستان مسلم لیگ  (ن) کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فاٹا پر خصوصی توجہ دیں۔ صدر ،گورنر  سب کا تعلق حکمران جماعت سے ہیں اس جماعت نے عام انتخابات سے پہلے بہت ہی بلند و بانگ دعوے   کئے۔ ذرا اس بات پر غور کرنی چاہیئے کہ راولپنڈی اسلام آباد  میٹرو بس سروس کی کل بجٹ غالبا 44 ارب روپے ہیں جبکہ پوری قبائلی پٹی جہاں ایک کروڑ سے زائد انسان بستے ہیں ، اپریشن زدہ علاقے ہیں  ، ان تمام ایجنسیوں کی سالانہ بجٹ 19 ارب سے بھی کم ہے ۔  حالانکہ ترقیاتی کام ہو یا تعمیر نو کے منصوبے  اور خصوصی ریلیف پیکجز  کی جتنی ضرورت قبائلی علاقاجات کیلئے ہے شائد  ملک کا کوئی اور حصہ اتنا زیادہ مستحق ہو۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ قبائل کسی علاقائی یا لسانی تعصب کے شکار ہیں بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے   یہاں کے باشندے انتہائی کشادہ دل اور وسیع النظر ہیں   یہ اور بات ہیں کہ  آج کل  یہ خطہ  ایک عالمی تجربہ گاہ کی منظر پیش کر رہا ہے ۔ یہاں کے لوگ محب وطن ہیں ۔ انسان دوست ہیں ۔محنت کش  ہیں ۔ بیرون مملک سے زرمبادلہ   میں ان کا خاص رول رہا ہے۔  تعلیم سے محبت رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان کی طرف از سر نو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر امن قائم ہو تو یہاں کے قیمتی معدنیات سے  ملکی زرمبادلہ میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔ کوئلہ،ماربل،کاپر، گیس اور تیل کے کافی ذخائر  موجود ہیں۔ یہاں بہت ہی قیمتی جنگلات ہیں ۔انہی کی وجہ سے مقامی افراد کو  روزگار کے بے شمار مواقع میسر ہو سکتے ہیں۔ یہاں سرکاری مقبوضہ اسکولوں کی بڑی تعداد ہے تیار عمارتیں ہیں ،لیکن ان کو  مہمان خانوں میں تبدیل کیا گیا ہے  یہ ان لوگوں کے پاس ہوا کرتے ہیں جن کے مقامی سرکار کے ساتھ  دو طرفہ خوشگوار تعلقات ہو ۔ جہاں  شورش نہیں حکومت کی رٹ موجود ہے وہاں  صحت ،تعلیم ،انصاف  اور دوسرے مسائل انتہائی آسانی سے حل کئے جا سکتے ہیں۔ یہ تھے مسائل جن کے حل کا تعلق حکومت کے پاس ہے اور انتہائی کم مدت میں ان مسائل میں 50 فیصد کمی لائی جا سکتی لیکن سوال یہ ہے کہ  وفاقی حکومت کو ملک کے دیگر میگا پراجیکٹس سے فرصت ملے۔  ان مسائل کے حل میں نہ تو دھرنے حائل ہیں اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ کا کوئی رول ہے  کس کو بہانہ بنا کر  منہ موڑ لیا جائے یہاں پاک فوج سیکیورٹی اور ترقیاتی کاموں میں حصہ لے رہی ہے  لیکن یہ حکومت پھر کس مرض کی دوا ہے؟۔ انشاء اللہ آئندہ نشست میں قبائلی عوام کی ذمہ داریوں کا  تذکرہ کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button